کن لوگوں کو پالک نہیں کھانی چاہیے؟

گردے کی پتھری کے شکار افراد کو پالک کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ پالک میں آکسیلیٹس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو کہ پتھری کا باعث بنتی ہے۔

پالک میں گوئٹروجن نامی مادہ پایا جاتا ہے، جو تھائیرائڈ گلینڈ کے کام کو متاثر کر سکتا ہے۔ اگر آپ کو تھائرائیڈ سے متعلق مسئلہ ہے تو پالک نہ کھائیں۔

پالک میں آئرن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، لیکن اس میں موجود فائٹیٹس لوہے کے جذب میں مداخلت کر سکتے ہیں۔ خون کی کمی کے مریض زیادہ نہ کھائیں۔

پالک میں فائبر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو کچھ لوگوں کے لیے گیس، اپھارہ یا اسہال جیسے مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ ایسی صورت میں پالک کا استعمال احتیاط سے کریں۔

جوڑوں کے درد کے مریضوں کو پالک کا زیادہ استعمال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس میں پیورین ہوتے ہیں جو یورک ایسڈ کی سطح کو بڑھا سکتے ہیں۔

پالک میں آکسیلیٹس اور فائبر زیادہ ہوتا ہے، جو سینے کی جلن اور السر والے لوگوں کو پریشان کر سکتا ہے۔ ایسی حالت میں پالک کھانے سے گریز کریں۔

پالک میں وٹامن کے کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، اگر کوئی خون پتلا کرنے والی غذا لے رہا ہے تو پالک نہ کھائیں۔

بچوں کو بہت زیادہ پالک نہیں کھانی چاہیے، کیونکہ اس میں نائٹریٹ کی مقدار زیادہ ہو سکتی ہے، جو بلیو بیبی سنڈروم کا سبب بن سکتی ہے۔